Skip to main content

The baby born in India was named 'Corona'

Uttar Pradesh: The baby born in the Indian state of Uttar Pradesh during the global outbreak was named 'Corona'.




Most countries in the world are forced to put down curfew and curfew due to 'corona', which has devastated the world economy since China spread around the world. New methods have also been invented and now in India, the baby born during curfew has also been named 'Corona'.

According to Indian media reports, the parents of the girl born in Gorakhpur district of Uttar Pradesh have given her the name 'Corona'. The virus has killed thousands of people, but where there are so many disadvantages, the virus has its benefits as we all come together because of it and it is a sign of solidarity for people.

India, like other countries around the world, has implemented the 'Janata Curfew' from March 22, which has directed people to stay in homes, while the number of Corona virus victims has increased to 562 in India so far. The virus also killed 9 people.

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سونے کی قیمتوں مے حیران کن کمی ۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 2 ڈالر جب کہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 150 روپے اور 129 روپے کی کمی ہوئی۔ عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 2 ڈالر کی کمی ہوئی، جب کہ پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 150 روپے اور 129 روپے کی کمی ہوگئی۔ قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہوکر 90 ہزار 450 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت کمی کے ساتھ 77 ہزار 346 روپے ہوگئی۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو زائرین یا تبلیغی جماعت سے جوڑ کر

جو لوگ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو زائرین یا تبلیغی جماعت  سے جوڑ کر اپنی تنگ نظری یا کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہے ان سے ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ پاکستان میں تو زائرین یا تبلیغی جماعت والے لے کر آئے اسپین ، فرانس ،اٹلی اور امریکا وغیرہ میں کونسی جماعت یا زائرین کا قافلہ گیا ہوا تھا؟ ہوش کیجئے ، انجانے میں ان طاقتوں کے آلہ کار مت بنیے کہ جو اس وبا کو اسلام کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کر رہیں انڈیا اور برطانیہ کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں کرونا ایک وبائی مرض ہے اور وبا کسی مذہب یا مسلک کی تمیز نہیں کرتی لہذا اگر ان دنوں اگر کوئی کام کرنے کو نہیں ہے تو گھر میں رہتے قرآن پاک کی تلاوت کریں ، نمازوں کی پابندی کریں اور سستی دانشوری سے پرہیز فرمائیں اللہ کریم آپکو ، آپکے اہل و عیال اور بالخصوص آپ کے ضمیر کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رکھیں آمین ہم تو صدا گو تھے ۔۔ ہمارا کیا تھا

ساری عورتیں کا خیال رکھناچاہیئے۔

عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہے لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہے، روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ پھر 4 بجے کے بعد سے افطاری تک اپنے خاندان والوں کے لیئے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہے۔ چاول، پالک، گوشت، چٹنی وغیرہ تیار کرتی ہے اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسے پکایا ہوگا۔ ساس اور سسر کے لیے الگ چیز پکاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ افطاری سے پہلے شوہر کے غصہ کو صبر سے جھیلنا بھی پڑتا ہے۔ اذان سے پہلے دسترخوان لگانا تعریف تو دور کی بات 2۔۔2 روٹیاں کھانے کے بعد ایک ٹھنڈا گلاس لسی مانگنا اور پھر کہنا کہ نمک کم ہے اور خاص ٹھنڈا نہیں ہے اور افطاری پوری کی پوری کر لی جناب نے۔ اسکے بعد چھپکے سے کسی کمرے میں افطاری کرلیتی ہے۔ تراویح کے بعد پھر سے حضرات کے لیئے چائے اور میوہ تیار کرتی ہے۔ اور پھر سے سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ نہ جاگی 2 بجے یا سحری لیٹ ہوئی تو سب خاندان کا نزلہ بیچاری عورت پر گرتا ہے سارا دن۔ آپ سے درحواست ہے کہ گھر کی ساری عورتیں خواہ وہ ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو بہن ہو یا کوئی اور رشتہ ہو ا...