Skip to main content

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے شہر مکہ مکرمہ میں 24 گھنٹے کرفیو نافذ کردیا

جدہ - سعودی عرب میں جمعرات کے روز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 24 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کیا گیا جس کے بعد مملکت میں کورونویرس کی ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی۔

اس سے پہلے یہ شہر 15 گھنٹے کے یومیہ کرفیو کے تحت تھے۔ سعودی عرب کے سرکاری عہدیدار نے وزارت داخلہ کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ، "مکہ اور مدینہ میں 24 گھنٹے سے جاری کرفیو آج سے شروع ہوکر اگلی اطلاع تک جاری ہے۔"
حکام نے ریاض اور جدہ کے ساتھ ہی مکہ اور مدینہ پر مہر ثبت کردی ہے ، جس سے لوگوں کو شہروں میں داخل ہونے
 اور جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کے درمیان نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔
سعودی عرب ، جس نے خلیج میں سب سے زیادہ انفیکشن کی اطلاع دی ہے ، گھر میں ہی اس بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لئے گھوم رہے ہیں۔

جمعرات کے روز وزارت صحت نے بتایا کہ بیماری سے اموات 21 ہوگئی ہیں جبکہ 1،885 انفیکشن کی اطلاع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سونے کی قیمتوں مے حیران کن کمی ۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 2 ڈالر جب کہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 150 روپے اور 129 روپے کی کمی ہوئی۔ عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 2 ڈالر کی کمی ہوئی، جب کہ پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 150 روپے اور 129 روپے کی کمی ہوگئی۔ قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہوکر 90 ہزار 450 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت کمی کے ساتھ 77 ہزار 346 روپے ہوگئی۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو زائرین یا تبلیغی جماعت سے جوڑ کر

جو لوگ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو زائرین یا تبلیغی جماعت  سے جوڑ کر اپنی تنگ نظری یا کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہے ان سے ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ پاکستان میں تو زائرین یا تبلیغی جماعت والے لے کر آئے اسپین ، فرانس ،اٹلی اور امریکا وغیرہ میں کونسی جماعت یا زائرین کا قافلہ گیا ہوا تھا؟ ہوش کیجئے ، انجانے میں ان طاقتوں کے آلہ کار مت بنیے کہ جو اس وبا کو اسلام کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کر رہیں انڈیا اور برطانیہ کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں کرونا ایک وبائی مرض ہے اور وبا کسی مذہب یا مسلک کی تمیز نہیں کرتی لہذا اگر ان دنوں اگر کوئی کام کرنے کو نہیں ہے تو گھر میں رہتے قرآن پاک کی تلاوت کریں ، نمازوں کی پابندی کریں اور سستی دانشوری سے پرہیز فرمائیں اللہ کریم آپکو ، آپکے اہل و عیال اور بالخصوص آپ کے ضمیر کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رکھیں آمین ہم تو صدا گو تھے ۔۔ ہمارا کیا تھا

ساری عورتیں کا خیال رکھناچاہیئے۔

عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہے لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہے، روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ پھر 4 بجے کے بعد سے افطاری تک اپنے خاندان والوں کے لیئے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہے۔ چاول، پالک، گوشت، چٹنی وغیرہ تیار کرتی ہے اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسے پکایا ہوگا۔ ساس اور سسر کے لیے الگ چیز پکاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ افطاری سے پہلے شوہر کے غصہ کو صبر سے جھیلنا بھی پڑتا ہے۔ اذان سے پہلے دسترخوان لگانا تعریف تو دور کی بات 2۔۔2 روٹیاں کھانے کے بعد ایک ٹھنڈا گلاس لسی مانگنا اور پھر کہنا کہ نمک کم ہے اور خاص ٹھنڈا نہیں ہے اور افطاری پوری کی پوری کر لی جناب نے۔ اسکے بعد چھپکے سے کسی کمرے میں افطاری کرلیتی ہے۔ تراویح کے بعد پھر سے حضرات کے لیئے چائے اور میوہ تیار کرتی ہے۔ اور پھر سے سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ نہ جاگی 2 بجے یا سحری لیٹ ہوئی تو سب خاندان کا نزلہ بیچاری عورت پر گرتا ہے سارا دن۔ آپ سے درحواست ہے کہ گھر کی ساری عورتیں خواہ وہ ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو بہن ہو یا کوئی اور رشتہ ہو ا...